حج:
اسلام کا پانچواں اور آخری رکن جو کہ صرف مالدار لوگوں پر فرض ھوتا ہے اور اس فرض کو پورا کرنے کی نیّت سے لاکھوں لوگ دنیا بھر سے نبیِ پاک ﷺ کے شہرِ مبارک مکّہ میں تشریف لاتے ہیں۔ جہاں یہ لوگ مکمل آذادی کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں اپنے رب سے براہ راست محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
مکہ مکرمہ وہ واحد جگہ ہے جہاں ہر مسلمان جانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ جہاں خدا کا سب سے پہلا گھر ہے، دنیا بھر سے لاکھوں عازمینِ حج ہر سال فریضہ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ آتے ہیں جن میں کچھ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر حج فرض ہوتا ہے جبکہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جن پر حج فرض نہیں ہوتا انہیں صرف ان کا جزبہ اتنی دور تک کھینچ لاتا ہے، کچھ حضرات تو عشقِ حقیقی میں اتنا ذیادہ ڈوب جاتے ہیں کہ وہ صرف اپنے رب کے گھر کی زیارت کے خاطر اپنا سب کچھ بیچ کر مکہ تشریف لاتے ہیں۔
حاجیوں میں سب سے بڑی تعداد بزرگوں کی ہوتی ہے جن میں ایسے ضعیف العمر لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو بہت ہی ذیادہ ضعیف لوگوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن جب دنیا بھر سے آنے والے یہ اللہ رب العزّت کے مہمان حج کی ادائیگی کا آغاز کرتے ہیں تو عمر ، رنگ ، نسل ، امیری ، غریبی کا فرق ختم ہو جاتا ہے اور ہر شخص ایک ہی صف میں اللہ کے گھر کی زیارت میں مصروف ہو جاتا ہے۔
لیکن پچھلے کئی سالوں سے حج کے دوران ہونے والی غیر معمولی بد نظمی کے باعث ہر سال سینکڑوں عازمین جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں۔ رواں سال بھی ایسے دو واقعات پیش آئے ہیں جو دل دہلا دینے کے لیے کافی ہیں، پہلے مسجدالحرام میں گرنے والی کرین جبکہ اسکے بعد منیٰ میں مچنے والی بھگدڑ۔
مسجدالحرام کرین حادثہ:
بات کرتے ہیں کرین حادثہ کی، دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے معزز مسجد مسجدالحرام میں لاکھوں عازمین جب فرضہ حج میں مصروف تھے تب ہی اچانک مسجد کے ارد گرد لگی کرینوں میں سے ایک کرین مسجدالحرام میں آگری جس کے نتیجے میں 107 عازمین شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔
سعودی حکومت نے اس حادثہ کی ذمہ داری نہ لی اور اسکی وجہ آسمانی بجلی اور خراب موسم کو قرار دے دیا گیا، موسم خراب تھا تبھی اچانک آسمانی بجلی اس کرین پر گری اور کرین حاجیوں پر گری، شاید اس بات میں حقیقت ہو پر ایک بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسلامی سال کے 360 دنوں میں سے زیادہ سے زیادہ 90 دن ایسے ہوتے ہیں جب مسجدالحرام میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اسکے علاوہ 270 دن مسجد میں صرف عمرہ زائرین ہی موجود ہوتے ہیں جن کی تعداد کو اگر ہم حج کی تعداد کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو عمرہ زائرین کی تعداد عازمینِ حج کی مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہوگی، اگر سعودی حکومت چاہتی تو ان 270 دنوں میں مسجد یا مسجد کے ارد گرد ترقیاتی یا رینیویشن کے کام کو مکمل کر سکتی تھی اور دورانِ حج پیش آنے والے اس حادثے سے بچ سکتی تھی۔ اگر کام باقی بھی تھا تو حج کے دوران کام رکوا دینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اور عالمِ اسلام کو ایک بہت بڑے حادثے کا سامنہ کرنا پڑ گیا جس کی ذمہ داری سراسر سعودی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔۔
سانحہ منیٰ:
بات یہیں ختم نہیں ہوتی ابھی عازمین اس حادثہ کو پوری طرح بھول بھی نہیں سکے تھے کہ حج کے آخری روز منیٰ میں جب یہ لوگ اپنے اس فرض کے آخری فرائض کو سرانجام دے رہے تھے تو اچانک ایک بھگدڑ سی مچی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزارں کی تعداد مین عازمین عازمینوں کے ہی پیروں تلے روند ڈالے گئے، بھگدڑ کے وقت ہی سعودی شہزادہ پورے پروٹوکول کے ساتھ منیٰ پہنچا تھا اب آپ ہی سوچیے جب کوئی بڑی شخصیت کہیں آتی جاتی ہے تو اسکے گارڈز یا سیکیورٹی اہلکار اسکے آنے سے پہلے ہی اس راستے سے عوام کو ہٹا دیتے ہیں جہاں سے اس شخص کو گزرنا ہوتا ہے اور میرے اندازے کے مطابق منیٰ میں مچنے والی بھگدڑ کی وجہ بھی یہی ہو سکتی ہے، جب شہزادے صاحب منیٰ آرہے ہونگے تو اس سے پہلے ہی انکی سیکورٹی نے منیٰ میں موجود عازمین کو راستا کلیئر کرنے کے لیے ادھر ادھر کیا ھوگا جس کے نتیجے میں لوگوں میں بدنظمی پیدا ہوئی اور بھگدڑ مچ گئی۔
خیر یہ تو مجھ جیسے ایک چھوٹی سی سوچ رکھنے والے انسان کا پوائنٹ آف ویو ہے جس میں شاید حقیقت شامل نہ ہو اور ابھی تک منیٰ میں ہونے والی اس بھگدڑ کی اصل حقیقت تک کوئی پہنچ نہیں سکا ہے اور شاید پہنچ بھی نہ سکے اور اس قیامت خیز حادثہ کی وجہ کو بھی انجان قرار دے کر کچھ عرصہ بعد بھلا دیا جائے گا۔ حقیقت جو بھی ہو لیکن اس حادثے نے پورے عالمِ اسلام کو سوگوار کر دیا ہے اس حادثہ میں سینکڑوں عازمین شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ مزہبی امور پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق 60 کے قریب پاکستانی شہید جبکہ 100 سے زائد پاکستانی عازمین تاحال لاپتہ ہیں جن کے اہلِ خانہ شدید اذیت اور کرب میں مبطلہ ہیں، ان کا کہنا ہے کے اس حوالے سے وزارتِ مزہبی امور بھی انکی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس حادثے میں شہید ہونے والے تمام لوگوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس حادثے میں زخمی ہونے والے تمام پاکستانی عازمین کے اہلِ خانہ کو صبر و ہمّت عطا فرمائے: آمین۔
ان دونوں حادثات کو اور پچھلے سالوں میں پیش آنے والے حادثات کو مدّنظر رکھتے ہوئے سعودی حکومت کو آئندہ سالوں میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے مکہ اور مدینہ کو اپنے باپ کی جاگیر نا سمجھتے ہوئے عالمِ اسلام سے آنے والے عازمین کی سیفٹی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرنا ہونگے ورنہ دوبارہ عالمِ اسلام کو اس طرح کے واقعات سے نبرد آزما ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پورے عالمِ اسلام کو سعودی حکومت پر اس بات کا زور دینا ضروری ہے کے ملک بھلے تمھارا ہے لیکن اسلام صرف تمہارا نہیں ہے اس پر ہم بھی اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا تم رکھتے ہو اور آئندہ اگر ایسا کچھ ہوا تو اسکی پوری ذمہ داری تم پر عائد ہوگی جس کی جوابداری بھی تم ہی کرو گے۔
اسکے ساتھ ہی اجازت دیجیے اپنے خادم کاشان انصاری کو اللہ حافظ۔۔۔۔
(محمد کاشان انصاری)
مکہ مکرمہ وہ واحد جگہ ہے جہاں ہر مسلمان جانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ جہاں خدا کا سب سے پہلا گھر ہے، دنیا بھر سے لاکھوں عازمینِ حج ہر سال فریضہ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ آتے ہیں جن میں کچھ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر حج فرض ہوتا ہے جبکہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جن پر حج فرض نہیں ہوتا انہیں صرف ان کا جزبہ اتنی دور تک کھینچ لاتا ہے، کچھ حضرات تو عشقِ حقیقی میں اتنا ذیادہ ڈوب جاتے ہیں کہ وہ صرف اپنے رب کے گھر کی زیارت کے خاطر اپنا سب کچھ بیچ کر مکہ تشریف لاتے ہیں۔
حاجیوں میں سب سے بڑی تعداد بزرگوں کی ہوتی ہے جن میں ایسے ضعیف العمر لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو بہت ہی ذیادہ ضعیف لوگوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن جب دنیا بھر سے آنے والے یہ اللہ رب العزّت کے مہمان حج کی ادائیگی کا آغاز کرتے ہیں تو عمر ، رنگ ، نسل ، امیری ، غریبی کا فرق ختم ہو جاتا ہے اور ہر شخص ایک ہی صف میں اللہ کے گھر کی زیارت میں مصروف ہو جاتا ہے۔
لیکن پچھلے کئی سالوں سے حج کے دوران ہونے والی غیر معمولی بد نظمی کے باعث ہر سال سینکڑوں عازمین جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں۔ رواں سال بھی ایسے دو واقعات پیش آئے ہیں جو دل دہلا دینے کے لیے کافی ہیں، پہلے مسجدالحرام میں گرنے والی کرین جبکہ اسکے بعد منیٰ میں مچنے والی بھگدڑ۔
مسجدالحرام کرین حادثہ:
بات کرتے ہیں کرین حادثہ کی، دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے معزز مسجد مسجدالحرام میں لاکھوں عازمین جب فرضہ حج میں مصروف تھے تب ہی اچانک مسجد کے ارد گرد لگی کرینوں میں سے ایک کرین مسجدالحرام میں آگری جس کے نتیجے میں 107 عازمین شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔
سعودی حکومت نے اس حادثہ کی ذمہ داری نہ لی اور اسکی وجہ آسمانی بجلی اور خراب موسم کو قرار دے دیا گیا، موسم خراب تھا تبھی اچانک آسمانی بجلی اس کرین پر گری اور کرین حاجیوں پر گری، شاید اس بات میں حقیقت ہو پر ایک بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسلامی سال کے 360 دنوں میں سے زیادہ سے زیادہ 90 دن ایسے ہوتے ہیں جب مسجدالحرام میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اسکے علاوہ 270 دن مسجد میں صرف عمرہ زائرین ہی موجود ہوتے ہیں جن کی تعداد کو اگر ہم حج کی تعداد کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو عمرہ زائرین کی تعداد عازمینِ حج کی مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہوگی، اگر سعودی حکومت چاہتی تو ان 270 دنوں میں مسجد یا مسجد کے ارد گرد ترقیاتی یا رینیویشن کے کام کو مکمل کر سکتی تھی اور دورانِ حج پیش آنے والے اس حادثے سے بچ سکتی تھی۔ اگر کام باقی بھی تھا تو حج کے دوران کام رکوا دینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اور عالمِ اسلام کو ایک بہت بڑے حادثے کا سامنہ کرنا پڑ گیا جس کی ذمہ داری سراسر سعودی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔۔
سانحہ منیٰ:
بات یہیں ختم نہیں ہوتی ابھی عازمین اس حادثہ کو پوری طرح بھول بھی نہیں سکے تھے کہ حج کے آخری روز منیٰ میں جب یہ لوگ اپنے اس فرض کے آخری فرائض کو سرانجام دے رہے تھے تو اچانک ایک بھگدڑ سی مچی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزارں کی تعداد مین عازمین عازمینوں کے ہی پیروں تلے روند ڈالے گئے، بھگدڑ کے وقت ہی سعودی شہزادہ پورے پروٹوکول کے ساتھ منیٰ پہنچا تھا اب آپ ہی سوچیے جب کوئی بڑی شخصیت کہیں آتی جاتی ہے تو اسکے گارڈز یا سیکیورٹی اہلکار اسکے آنے سے پہلے ہی اس راستے سے عوام کو ہٹا دیتے ہیں جہاں سے اس شخص کو گزرنا ہوتا ہے اور میرے اندازے کے مطابق منیٰ میں مچنے والی بھگدڑ کی وجہ بھی یہی ہو سکتی ہے، جب شہزادے صاحب منیٰ آرہے ہونگے تو اس سے پہلے ہی انکی سیکورٹی نے منیٰ میں موجود عازمین کو راستا کلیئر کرنے کے لیے ادھر ادھر کیا ھوگا جس کے نتیجے میں لوگوں میں بدنظمی پیدا ہوئی اور بھگدڑ مچ گئی۔
خیر یہ تو مجھ جیسے ایک چھوٹی سی سوچ رکھنے والے انسان کا پوائنٹ آف ویو ہے جس میں شاید حقیقت شامل نہ ہو اور ابھی تک منیٰ میں ہونے والی اس بھگدڑ کی اصل حقیقت تک کوئی پہنچ نہیں سکا ہے اور شاید پہنچ بھی نہ سکے اور اس قیامت خیز حادثہ کی وجہ کو بھی انجان قرار دے کر کچھ عرصہ بعد بھلا دیا جائے گا۔ حقیقت جو بھی ہو لیکن اس حادثے نے پورے عالمِ اسلام کو سوگوار کر دیا ہے اس حادثہ میں سینکڑوں عازمین شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ مزہبی امور پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق 60 کے قریب پاکستانی شہید جبکہ 100 سے زائد پاکستانی عازمین تاحال لاپتہ ہیں جن کے اہلِ خانہ شدید اذیت اور کرب میں مبطلہ ہیں، ان کا کہنا ہے کے اس حوالے سے وزارتِ مزہبی امور بھی انکی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس حادثے میں شہید ہونے والے تمام لوگوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس حادثے میں زخمی ہونے والے تمام پاکستانی عازمین کے اہلِ خانہ کو صبر و ہمّت عطا فرمائے: آمین۔
ان دونوں حادثات کو اور پچھلے سالوں میں پیش آنے والے حادثات کو مدّنظر رکھتے ہوئے سعودی حکومت کو آئندہ سالوں میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے مکہ اور مدینہ کو اپنے باپ کی جاگیر نا سمجھتے ہوئے عالمِ اسلام سے آنے والے عازمین کی سیفٹی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرنا ہونگے ورنہ دوبارہ عالمِ اسلام کو اس طرح کے واقعات سے نبرد آزما ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پورے عالمِ اسلام کو سعودی حکومت پر اس بات کا زور دینا ضروری ہے کے ملک بھلے تمھارا ہے لیکن اسلام صرف تمہارا نہیں ہے اس پر ہم بھی اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا تم رکھتے ہو اور آئندہ اگر ایسا کچھ ہوا تو اسکی پوری ذمہ داری تم پر عائد ہوگی جس کی جوابداری بھی تم ہی کرو گے۔
اسکے ساتھ ہی اجازت دیجیے اپنے خادم کاشان انصاری کو اللہ حافظ۔۔۔۔
(محمد کاشان انصاری)



No comments:
Post a Comment